Download App
100% سچی خوفناک کہانی اردو / Chapter 1: قبریں خوفناک اردو کہانی Horror story in Urdu Hindi
سچی خوفناک کہانی اردو سچی خوفناک کہانی اردو original

سچی خوفناک کہانی اردو

Author: naasir_Hussain

© WebNovel

Chapter 1: قبریں خوفناک اردو کہانی Horror story in Urdu Hindi

کہتے ہیں کہ انسان جس جگہ ایک بار جاتا ہے زندگی میں دوسری بار بھی اسی جگہ ضرور جاتا ہے ۔۔۔۔ اور مجھے اس بات پر اس دن یقین آیا جب سولہ سال بعد مجھے اپنے پرانے محلے جانا پڑ گیا ۔۔۔۔ میں اتنے سال بعد اچانک اس محلے میں آیا تھا سب کچھ بدل چکا تھا ۔۔۔۔ یہ وہ محلہ تھا جہاں میں نے اپنا بچپن اپنی زندگی گزاری تھی پھر ابو کو تبادلہ ہو گیا اور ہم نے یہ شہر ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔ اور آج جب اتنے سال بعد ایک بار پھر اسی محلے میں واپس آیا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔

میں پرانی گلیوں میں چلتا جا رہا تھا ۔۔۔ وہاں کوئی مجھے نہیں جانتا تھا ۔۔۔ چلتے چلتے ایک پرانے گھر کے سامنے میرے قدم خود بخود رک گئے ۔۔۔ اس گھر کی ساری دیواریں ٹوٹ چکی تھیں ۔۔۔ اور دروازہ بھی پرانا ہو چکا تھا ۔۔۔ اس گھر کو دیکھ کر مجھے بہت کچھ یاد آنے لگا ۔۔۔ وہ ہمارے پڑوسیوں کا گھر تھا اور میں بچپن اور جوانی میں بھی اکثر ان کے گھر کھیلنے جاتا تھا ۔۔۔۔

سچ پوچھیں تو کھیلنا صرف ایک بہانہ تھا ۔۔۔ میں اصل میں شبانہ کو دیکھنے جاتا تھا ۔۔۔ شبانہ بہت خوبصورت اور میری سب سے اچھی دوست تھی ۔۔۔۔

۔۔۔ دوست وہ صرف بچپن تک تھی جب میں کچھ بڑا ہوا تو مجھ اس سے پیار ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

وہ بھی مجھ سے بہت پیار کرتی تھی ۔۔۔ پھر ہم لوگ ہمیشہ کے لئے یہ محلہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور شبانہ یہیں رہ گئی ۔۔۔ شبانہ کی ایک بہت اچھی دادی بھی تھی جو مجھے بیٹے کی طرح پیار کرتی تھی ۔۔۔ اور میں بھی انہیں اپنی سگی دادی کی طرح سمجھتا تھا ۔۔۔ مگر اب تو کچھ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔ شاید اس کی شادی ہو گئی ہوگی اور اب تو اس کے بچے بھی ہو چکے ہوں اتنے سال جو گزر چکے تھے ۔اور اس کی دادی تو اب یقینا فوت ہو چکی ہوں گی کیونکہ وہ تو اسی وقت بہت بوڑھی اور کمزور تھی اور اب تو اتنے سال گزر گئے ۔۔۔۔۔ اور مجھے اس بات پر بھی یقین نہیں تھا کہ یہ گھر اب بھی انہی کا ہے یا وہ بھی یہ گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔۔۔

پھر بھی بے اختیار میں نے دروازہ کھٹکایا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور جس نے دروازہ کھولا تھا اسے دیکھ کر میری سانس گلے میں اٹکنے لگی میں صدمے اور حیرت سے اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔ وہ شبانہ تھی ۔۔۔ بالکل ویسی شبانہ جیسی میں اس چھوڑ کر گیا تھا وہ بالکل نہیں بدلی نہ اس کا چہرہ نہ رنگ اور نہ ہی اس پر وقت گزرنے کا کوئی اثر ہوا تھا وہ ابھی بھی ویسی ہی خوبصورت اور جوان تھی ۔۔۔ مجھے دیکھ کر اس نے اداسی سے کہا ۔۔۔۔

تم آ گئے باسط میں اتنے سالوں سے تمہارا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔تم یوں بنا بتائے چلے گئے تھے ایسے بھی کوئی جاتا ہے کیا '

میں نے اس کی بات سن کر کچھ شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔۔۔ اور معذرت کرتے ہوئے بولا ۔۔۔

آئم سوری شبانہ اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تھے اور یہی وقت کا فیصلہ تھا کہ ہم دوسولہں جدا ہو جاتے '

میری بات سن کر اس نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور بولی ۔۔۔

چلو ابھی یہیں کھڑے رہو گے یا اندر بھی آو گے '

شبانہ کی بات پر میں اندر ان کے گھر میں چلا گیا ۔۔۔ ان کا پرانا گھر بالکل ویسے تھا جیسے سولہ سال پہلے تھا ۔۔۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا ۔۔۔ میں اندر جاتے ہوئے گھر کا جائزہ بھی لیتا جا رہا تھا ۔۔۔ پھر چلتے چلتے میں اچانک ٹھٹھک کر رک گیا ۔۔۔ میری جو سامنے نظر پڑی تو میں شاکڈ ہو گیا ۔۔۔۔

سامنے ایک چار پائی پر شبانہ کی دادی بیٹھی تھیں ۔۔۔ میں اس کی دادی کو زندہ دیکھ کر حیران تھا اتنے سال بعد نہ صرف وہ زندہ تھیں بلکہ ویسی کی ویسی صحت مند تھیں ۔۔۔ میں آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھے جا رہا تھا ایسا کیسے ممکن تھا ۔۔۔

پھر میں نے اس کی دادی کو سلام کیا ۔۔۔ دادی نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

کیسے ہو باسط ۔۔۔ اتنے سال بعد کیسے یاد کیا ہم غریبوں کو '

میں دادی کی بات سن کر مزید حیران ہو گیا ۔۔۔ انہوں نے صرف ایک نظر دیکھ لینے پر ہی مجھے پہچان لیا تھا ۔۔۔ جبکہ میری شکل اتنے سالوں میں کافی تبدیل ہو چکی تھی اور جب میں یہاں سے گیا تھا تب میرے چہرے پر داڑھی بھی نہیں تھی ۔۔۔ میں ان کی یاداشت پر کافی حیران تھا۔۔۔۔

پتا نہیں کیوں لیکن میرا دل کہہ رہا تھا کچھ غلط ہے ۔۔۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔

میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں دادی '

پھر دادی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھایا ۔۔۔۔

اسی وقت شبانہ نے اپنے ملازم کو آواز دے کر کہا ۔۔۔۔

ناظم چائے لے کر آو ۔۔۔ '

میں شبانہ کی بات سن کر ایک حیرت میں ڈوب گیا۔۔۔ ناظم ان کے گھر کا کافی پرانا ملازم تھا اور وہ اس وقت بھی انہی کے گھر کام کرتا تھا جب ہم چھوٹے تھے ۔۔۔ اور آج اتنے سال بعد بھی وہ اسی گھر میں ملازم تھا ۔۔۔ میرے لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے شبانہ سے پوچھا ۔۔۔۔

کیا ناظم اب بھی یہاں کام کرتا ہے ۔۔۔ '

شبانہ مسکراتےہوئے بولی ۔۔۔

ہاں ناظم اب بھی ہمارے گھر میں کام کرتا ہے سب کچھ وہی ہے جیسے تم چھوڑ کر گئے تھے بس تم ہی بدل گئے ہو '

شبانہ نے شکوہ کیا اور میں اس کے شکوے پر مزید شرمندہ ہو گیا ۔۔۔ پھر شبانہ کی دادی نے ایک نہایت عجیب و غریب بات کہی ۔۔۔

بیٹا تم نے ہمارے گھر میں موجود قبریں دیکھ لیں '

میں ان کی بات سن کر بری طرح الجھ گیا اور میں نے حیرانگی سے شبانہ کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔

یہ دادی کن قبروں کی بات کر رہی ہیں اور گھر میں کس کی قبریں ہیں '

شبانہ نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے اپنی دادی کو ٹوکتے ہوئے کہا ۔۔۔

کیا دادی آپ بھی ہر مہمان کے سامنے قبروں کا ذکر لے کر بیٹھ جاتی ہیں ۔۔۔ اس بیچارے کو چائے تو پینے دو ۔۔۔ '

دادی نے کچھ شرمندگی سے میری طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

اچھا بیٹا تم چائے پی لو پھر بات کریں گے ۔۔۔ '

لیکن میں بری طرح الجھ چکا تھا ۔۔۔ آخر کیا تھا جو میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ میں وہیں دادی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے رہا ۔۔۔۔ دادی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

تم اتنے بڑے آدمی بن گئے دوبارہ اس محلے میں ہی نہیں آئے ۔۔۔ ہم تمہارا انتظار کرتے رہے ۔۔۔ '

میں نے دادی کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔۔

دادی بس حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ دوبارہ نہیں آ سکا ۔۔۔ میرا بہت دل کرتا تھا میں آپ کے پاس آوں آپ سب سے ملوں '

دادی نے بڑی محبت سے میرے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

اچھا تمہاری امی ابو اور باقی بہن بھائی کیسے ہیںں '

میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔

سب ٹھیک ہیں دادی اور امی تو آپ سب کو بہت یاد کرتی ہیں ۔۔۔ '

پھر میں نے شبانہ کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

شبانہ تم نے اب تک شادی کیوں نہیں کی '

میری بات پر شبانہ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔

میں تم سے شادی کرنا چاہتی تھی تمہارے علاوہ کسی اور سے کیسے شادی کر سکتی تھی اور تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے '

شبانہ کی ہر بات پر میرے پرانے زخم تازہ ہو رہے تھے ۔۔۔ پھر ان کے گھر کا ملازم ناظم چائے لے کر آیا تھا ۔۔۔ میں ناظم کو دیکھ کر ایک بار پھر الجھ گیا ۔۔ کیونکہ ناظم اب بھی ویسا تھا جیسے سولہ سال پہلے تھا ۔۔۔ وہ بالکل نہیں بدلا تھا ۔۔۔

اور نہ ہی اس کی عمر بڑھی تھی ۔۔۔ اور میں سوچ رہا تھا کیا اس گھر میں رہنے والوں پر وقت گزرنے کا بالکل اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔ سب کے سب ویسے ہی جوان تھے جیسے میں ان چھوڑ کر گیا تھا اب تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ کچھ نہ کچھ واقعی عجیب ہے ۔۔۔۔

ناظم نے چائے رکھ کر مجھے دیکھا اور خوش ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔

باسط بابو آپ اتنے سال بعد ہمارے گھر کا راستہ کیسے بھول آئے ۔۔۔ '

وہ بالکل ویسا تھا وہی آواز وہی لہجہ ۔۔۔۔

میں نے کہا ۔۔۔

یار ناظم تم تو بالکل نہیں بدلے اتنے سال بعد بھی بالکل ویسے ہی ہو جیسے پہلے تھے '

اور میں چائے اٹھا کر پینے لگا ۔۔۔۔۔

چائے کے دوران شبانہ اور ناظم وہیں بیٹھ گئے ۔۔۔ اور میرے ساتھ باتیں کرتے رہے ۔۔۔ میں دادی کے ساتھ بھی باتیں کرتا رہا ۔۔ ہم سب کو پرانا وقت یاد آ رہا تھا اور پرانی باتیں یاد کرتے رہے ۔۔۔۔ اسی دوران دادی نے ایک عجیب و غریب واقعہ سنایا ۔۔۔

بیٹا آج سے سات سے پہلے 12 دسمبر 2004 کی صبح ہمارے گھر میں دو چور آئے تھے ۔۔۔ اور انہوں نے ہم سب کو پکڑا اور گھر کا سارا سامان لے گئے ۔۔۔ پھر ان چوروں نے ہم تیسولہں کو رسیوں سے باندھ دیا تھا ۔۔۔ اور بندوق نکال کر ہم تیسولہں کی طرف بڑھے ۔۔۔۔ '

دادی واقعہ سناتے سناتے رک گئیں ۔۔۔

میں سانس روکے ان کا واقعہ سن رہا تھا پھر میں نے ان سے پوچھا ۔۔۔۔

دادی پھر کیا ہوا ان چوروں نے کیسے چھوڑا تھا آپ کو '

میری بات سن کر دادی نے اداسی سے اپنا دوپٹہ سر پر لیا اور بولیں ۔۔۔

پتا نہیں بیٹا آگے کیا ہوا تھا مجھے کچھ خاص یاد نہیں۔۔۔ اب بوڑھی ہو چکی ہوں یاداشت بھی کمزور ہے ۔۔۔ '

میں نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔ کچھ دیر تک میں ان کے ساتھ باتیں کرتا رہا پھر چائے پی کر میں جانے کے لئے کھڑا ہوا ۔۔۔ دادی شبانہ اور ناظم بھی کھڑے ہوئے پھر میں نے دادی اور شبانہ سے کہا ۔۔۔۔

چلو اس وقت چلتا ہوں اگر زندگی رہی تو پھر ملیں گے ۔۔۔ '

میں نے جانے سے پہلے شبانہ کی آنکھوں میں دیکھا اس کی آنکھوں میں بے پناہ اداسی تھی ۔۔۔ میں اس سے نظریں نہیں ملا سکا ۔۔۔ پھر میں واپس جانے کے لئے مڑا تو دادی نے پیچھے سے آواز دے کر کہا ۔۔۔۔

رک جاو بیٹا قبریں تو دیکھتے جاو ۔۔۔ '

میں نے کچھ الجھ کر دادی کو دیکھا ۔۔۔

اور پھر دادی نے سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

بیٹا وہ رہیں قبریں۔۔۔ '

میں نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو گھر کے پچھلے حصے کی طرف ایک درخت کے نیچے کچھ قبریں تھیں ۔۔۔ میں بری طرح الجھ گیا کہ گھر کے اندر کس کی قبریں ہو سکتی ہیں ۔۔۔ کیونکہ جب میں بچپن میں یہاں آتا تھا تب تو یہاں کسی کی قبریں نہیں تھیں۔۔۔

دادی نے کہا ۔۔۔

چلو بیٹا چل کر دیکھ لو سوچ کیا رہے ہو ۔۔۔ '

دادی کی بات پر میں ان قبروں کی طرف جانے لگا ۔۔۔ شبانہ ناظم اور دادی بھی میرے پیچھے پیچھے آنے لگیں ۔۔۔۔ میں ان قبروں کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔ وہ تین پرانی قبریں تھیں ۔۔۔ جن پر حد سے زیادہ مٹی اور کچھ جڑی بوٹیاں اگی ہوئی تھیں ۔۔۔۔

ان تینوں قبروں پر ایک ایک تختی لکھی ہوئی تھی ہر تختی پر مرنے والے کا نام تھا ۔۔۔ میں ان قبروں کے پاس گیا ۔۔۔ پہلی قبر کی تختی کی طرف میں نے دیکھا تو اس پر نام پڑھ کر مجھے لگا میں اگلا سانس بھی نہیں لے سکوں گا ۔۔۔۔

اس تختی پر لکھا تھا ۔۔۔۔

نوراں دادی وفات 12 دسمبر 2004

میری آنکھیں خوف اور حیرت سے پھیل گئیں ۔۔۔ دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی ۔۔۔ میں نے دوسری قبر کی تختی کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو ایک اور صدمہ لگا ۔۔۔ جس پر لکھا تھا ۔۔۔

ناظم علی وفات ۔۔۔۔ 12 دسمبر 2004

ڈر اور خوف کر مارے میں پسینہ پسینہ ہو گیا ۔۔۔ میرا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ جلدی جلدی اس تیسری قبر کا کتبہ دیکھا ۔۔۔ تو میرے لئے سانس لینا مشکل ہو گیا اس پر لکھا تھا ۔۔۔۔

شبانہ اسلم وفات 12 دسمبر 2004

میرا دل خشک پتے کی طرح کانپ رہا تھا ۔۔۔۔ اس کا مطلب دادی ، شبانہ اور کاظم مر چکے تھے ۔۔۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پیچھے دیکھا ۔۔۔

پیچھے کوئی بھی نہیں تھا سب غائب تھے ۔۔۔ میں خوف سے کانپتے ہوئے تیزی سے وہاں سے جانے لگا ۔۔۔ ۔

میں اب تک مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ تھا ۔۔۔ یہ سوچ کر ہی میرا وجود کانپنے لگا ۔۔۔ شبانہ دادی اور ناظم مر چکے تھے ۔۔۔ اور 12 دسمبر 2004 کے دن جب وہ چور ان کے گھر آئے تھے تو ان چوروں نے شبانہ ، دادی اور ناظم کو مار دیا تھا ۔۔۔۔۔

میرا دل بہت اداس اور خوفزدہ تھا

میں بھاگتا ہوا اس پرانے خوفناک گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔ اور اس دن کے بعد دوبارہ کبھی اس محلے میں نہیں گیا ۔۔۔۔


Load failed, please RETRY

New chapter is coming soon Write a review

Weekly Power Status

Rank -- Power Ranking
Stone -- Power stone

Batch unlock chapters

Table of Contents

Display Options

Background

Font

Size

Chapter comments

Write a review Reading Status: C1
Fail to post. Please try again
  • Writing Quality
  • Stability of Updates
  • Story Development
  • Character Design
  • World Background

The total score 0.0

Review posted successfully! Read more reviews
Vote with Power Stone
Rank NO.-- Power Ranking
Stone -- Power Stone
Report inappropriate content
error Tip

Report abuse

Paragraph comments

Login